
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف شدید اور تیز رفتار حملوں کی نئی لہر کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان ممکنہ حملوں کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا، تعطل کا شکار مذاکرات کو نئی سمت دینا، یا جنگ کے مکمل خاتمے سے قبل ایران کو فیصلہ کن ضرب لگانا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی منصوبے میں ایران کے اہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی حکمت عملی بھی شامل ہے، تاکہ عالمی بحری آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی فوجی حکام آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس ممکنہ عسکری حکمت عملی پر اہم بریفنگ دیں گے، جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ بھی شیئر کیا گیا ہے، جس میں اس اہم گزرگاہ کو “آبنائے ٹرمپ” کا نام دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی خطرناک سطح تک لے جا سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں