
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
نے ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا تو آج نہ امریکا ہوتا اور نہ ہی اسرائیل کا وجود باقی رہتا۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کی بروقت مداخلت نے ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکا، ورنہ مشرقِ وسطیٰ مکمل تباہی کا شکار ہو سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا تو پورے خطے کو ختم کر دیتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران میں داخل ہو کر لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتے، اسی لیے ایرانی قیادت کو دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس سے پوری دنیا خطرے میں پڑ جائے گی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ سخت پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران میں مہنگائی کی شرح 150 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور کرنسی بے وقعت ہو چکی ہے۔
تیل کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں ایٹمی خطرے سے بچنے کی ایک معمولی قیمت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدشہ تھا تیل کی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، لیکن اس وقت یہ تقریباً 102 ڈالر فی بیرل ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ایرانی قیادت مذاکرات کے حوالے سے دوہرا مؤقف اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی میڈیا ایران کی کامیابی کی غلط تصویر پیش کر رہا ہے اور عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ ایرانی عوام کو اچھا سمجھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ بے گناہ لوگ اس کشیدگی کا نشانہ بنیں