ٹرمپ نے ایران کا جواب مسترد کردیا ایران پے حملے کرنے کا عندیہ

23

امریکی صدر Donald Trump نے ایران کی جانب سے جنگ بندی اور جوہری پروگرام سے متعلق دیے گئے جواب کو مسترد کرتے ہوئے اسے “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دے دیا۔

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کا جواب پڑھ لیا ہے، تاہم یہ جواب انہیں ہرگز پسند نہیں آیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف قابلِ قبول نہیں اور امریکا اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

اس سے قبل ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے 70 فیصد اہداف کو پہلے ہی نشانہ بنا چکا ہے جبکہ چند اہم اہداف اب بھی باقی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا آئندہ دو ہفتوں کے دوران ایران پر مزید حملے بھی کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران گزشتہ 47 برس سے دنیا کے ساتھ “تاخیر، تاخیر اور صرف تاخیر” کا کھیل کھیل رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار The Wall Street Journal نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی تجاویز کا تفصیلی جواب ثالث پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے عارضی طور پر یورینیم افزودگی روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم امریکا کا 20 سال تک افزودگی نہ کرنے اور جوہری تنصیبات مکمل ختم کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

ایران نے امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے، جنگ بندی کے نفاذ اور آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے کی تجویز بھی دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران نے آئندہ 30 روز کے اندر جوہری معاملات پر نئے مذاکرات شروع کرنے کی پیشکش بھی کی ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ