نیتن یاہو کا متحدہ عرب امارت کا خفیہ دورہ

40

اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران انہوں نے United Arab Emirates کا خفیہ دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے اماراتی صدر Mohamed bin Zayed Al Nahyan سے ملاقات کی۔

اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت ہوئی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے یو اے ای کو اپنے جدید فضائی دفاعی نظام Iron Dome کی ایک بیٹری اور اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار فراہم کیے تھے، تاکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی Mossad کے سربراہ David Barnea نے بھی جنگ کے دوران کم از کم دو مرتبہ یو اے ای کا دورہ کیا۔

برطانوی اخبار Financial Times نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے یو اے ای کو جدید دفاعی نظام فراہم کیے، جن میں لیزر بیسڈ Iron Beam اور ’اسپیکٹرو‘ نامی سرویلنس سسٹم شامل ہیں۔ یہ نظام تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے تک آنے والے ڈرونز، خصوصاً ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز، کا سراغ لگانے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس سے قبل ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ یو اے ای نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دو بیلسٹک میزائل اور تین ڈرونز تباہ کیے۔

اماراتی صدر کے مشیر کا کہنا تھا کہ یو اے ای نے کبھی جنگ نہیں چاہی اور خطے میں کشیدگی کو روکنے کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھیں

مزید خبریں

آپ کی راۓ