ایران پر دوبارہ امریکی حملہ منگل کے دن کیوں اور کیسے؟ حقائق؟

32

واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ ایران پر منگل کے روز حملے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم Saudi Arabia، Qatar اور United Arab Emirates کی قیادت کی درخواست پر یہ منصوبہ مؤخر کردیا گیا۔

اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ سعودی ولی عہد Mohammed bin Salman، قطر کے امیر Tamim bin Hamad Al Thani اور متحدہ عرب امارات کے صدر Mohamed bin Zayed Al Nahyan نے فوری کارروائی سے گریز کا مشورہ دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور خلیجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایک ایسی مفاہمت ممکن ہے جو امریکا، مشرق وسطیٰ اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے قابل قبول ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہی مشاورتوں کے بعد امریکی وزیر دفاع، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور فوجی قیادت کو ہدایت کی گئی کہ فی الحال حملہ نہ کیا جائے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ قابل قبول معاہدہ طے نہ پایا تو امریکی فوج مختصر نوٹس پر بھرپور کارروائی کے لیے تیار رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران ہتھیار ڈال دے اور شکست تسلیم کرلے، تب بھی بعض ذرائع ابلاغ حقائق تسلیم نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مؤثر معاہدے کے امکانات روشن ہیں، بشرطیکہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی ضمانت دے

مزید خبریں

آپ کی راۓ