
امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے لیے بےتاب دکھائی دے رہا ہے، تاہم اگر معاہدہ طے نہ پایا تو آئندہ دنوں میں ایران پر دوبارہ حملے کا امکان موجود ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران پر حملے سے صرف چند گھنٹے کے فاصلے پر تھا، اور بعض عسکری اقدامات مکمل تیاری کے مرحلے میں تھے۔ ان کے مطابق بحری جہاز میزائلوں سمیت تعینات کیے جانے کے لیے تیار تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت اب بھی محدود حد تک موجود ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ کی جانب سے سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
امریکی صدر کے مطابق ایران آئندہ دو سے تین دن، یا ممکنہ طور پر جمعے، ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں حملوں کی زد میں آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایران کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا، جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اس سے قبل بھی ایران پر حملے کے فیصلے کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن آخری لمحے میں صورتحال تبدیل ہو گئی۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران گزشتہ 47 سال سے آبنائے ہرمز کو ایک عسکری دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض ممالک، جن میں کیوبا بھی شامل ہے، کو اندرونی مسائل کے باعث مدد کی ضرورت ہے، تاہم اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیل نہیں دی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے