
تہران/واشنگٹن: ایرانی کمرشل جہاز پر مبینہ امریکی حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل سے منسلک ایک جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب امریکا اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والے جہاز پر کروز میزائل حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز پر دھماکا ہوا۔ ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی حملے کا فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، تاہم انہوں نے معاہدے کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے لبنان کی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ابراہیم عزیزی نے صہیونی حکومت اور امریکی افواج کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ کوئی کھوکھلی دھمکی نہیں بلکہ ایران ہر قسم کے فوجی جواب کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہ