لبنانی صدر کی اسرائیل کو مزاکرات کی دعوت

17

بیروت: لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی حل کبھی بھی اسرائیلی عوام کو حقیقی تحفظ اور سلامتی فراہم نہیں کر سکتا۔

امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر جوزف عون نے کہا کہ لبنان بات چیت کے لیے تیار اور پُرعزم ہے، اگر اسرائیل بھی آمادہ ہے تو دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عسکری اقدامات سے دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا اور پائیدار سلامتی صرف سیاسی حل کے ذریعے ممکن ہے۔

لبنانی صدر نے واضح کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنے سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ممکنہ معاہدہ عدم جارحیت پر مبنی ہوگا، مکمل امن معاہدہ نہیں۔

جوزف عون کا کہنا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی موجودہ کیفیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ضروری ہے، اور ایسا معاہدہ منصفانہ اور پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان 2002 کی عرب امن پہل کے مطابق آگے بڑھے گا، جس کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ عرب علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے بدلے عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد مکمل جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنا ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ