
اسلام آباد: نجی اسکولوں کا 4 ہزار سے زائد غیر اسکولی بچوں کو مفت تعلیم دینے کا فیصلہ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہزاروں غیر اسکولی بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں 100 سے زائد نجی تعلیمی اداروں نے اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت 4 ہزار سے زائد بچوں کو بلا معاوضہ داخلے دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
یہ اقدام وفاقی وزارتِ تعلیم کی ’’کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے‘‘ مہم کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ہر بچے کو تعلیم کے بنیادی حق تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
پیرنٹس ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں داخلہ مہم کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تعلیمی شمولیت کے عمل کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کی دیہی یونین کونسلوں میں کیے گئے ایک جامع سروے کے دوران 5 سے 16 سال عمر کے 24 ہزار سے زائد ایسے بچوں کی نشاندہی کی گئی جو کسی بھی تعلیمی ادارے میں زیرِ تعلیم نہیں تھے۔ ان بچوں کا ریکارڈ متعلقہ تعلیمی اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں فوری طور پر تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔
پیرا حکام کے مطابق نجی شعبے کا یہ تعاون حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی مہم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نئے داخل ہونے والے بچوں کو درسی کتب، اسٹیشنری اور دیگر ضروری تعلیمی سامان بھی مفت فراہم کیا جائے گا، جبکہ طلبہ کی حاضری اور تعلیمی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے خصوصی نگرانی کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
حکام نے عزم ظاہر کیا کہ جون 2026 کے اختتام تک اسلام آباد میں 25 ہزار غیر اسکولی بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے