حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کریں گے: ٹرمپ

1

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق طے پانے والی مفاہمتی یادداشت حتمی معاہدہ نہیں اور اگر انہیں حتمی معاہدہ قابلِ قبول نہ لگا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کی طرف جا سکتا ہے۔

فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک اہم ڈیل طے پائی ہے، تاہم ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بحال ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ڈیل نہ ہوتی تو پوری دنیا شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو محدود سطح پر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈز سے متعلق خبروں کو بھی غلط قرار دیا۔

امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں فوری طور پر پابندیوں میں نرمی شامل نہیں، پابندیوں میں نرمی سے متعلق بعد میں غور کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ سے نمٹنے کے حوالے سے شامی قیادت سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹس بلند سطح پر ہیں جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، جو اس معاہدے کے مثبت اثرات ہیں۔

اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پیش رفت پر صدر ٹرمپ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدے کے منتظر ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے مصر اور امریکا کے درمیان تجارتی تعاون اور متنازع ڈیم کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے مصر کے ڈیم منصوبے میں امریکی تعاون کا عندیہ بھی دیا

مزید خبریں

آپ کی راۓ