ایران امریکہ ہونےوالے معاہدے میں کیا ہے؟

1

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں تیار کیے گئے مبینہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا مسودہ سامنے آ گیا ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جامع جنگ بندی، معاشی تعاون، جوہری امور پر پیش رفت اور پابندیوں کے خاتمے سمیت متعدد اہم نکات شامل ہیں۔

مسودے کے مطابق امریکا اور ایران فوری اور مستقل جنگ بندی پر متفق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام اور عدم مداخلت کا عہد کریں گے۔ دستاویز میں 60 روز کے اندر حتمی امن معاہدے کے لیے مذاکرات مکمل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اہم نکات کے مطابق:

مسودے میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف بحری پابندیوں اور رکاوٹوں کو مرحلہ وار ختم کرے گا جبکہ ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا پابند ہوگا۔

دستاویز میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا منصوبہ تشکیل دے گا، جس کے لیے مالی و تکنیکی طریقہ کار حتمی معاہدے میں طے کیا جائے گا۔

اسی طرح امریکا ایران پر عائد تمام یکطرفہ اور بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کا بھی عہد کرے گا، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد تک محدود رکھنے اور افزودہ یورینیئم کی سطح کم کرنے پر آمادگی ظاہر کرے گا۔

جوہری اور سیکیورٹی امور:

مسودے میں کہا گیا ہے کہ جوہری مواد کی نگرانی آئی اے ای اے کے تحت کی جائے گی، جبکہ حتمی فریم ورک پر دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اتفاق کریں گے۔

مالی اور معاشی اقدامات:

دستاویز کے مطابق امریکا ایران کے منجمد اثاثے اور مالی فنڈز قابل استعمال بنانے پر رضامند ہوگا، جبکہ ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے بھی مرحلہ وار رعایتیں دینے کی تجویز شامل ہے۔

نگرانی اور عملدرآمد:

مسودے میں ایک مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ حتمی معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے توثیق لازمی قرار دی گئی ہے۔

اہم پیش رفت یا ابتدائی مسودہ؟

سفارتی حلقوں کے مطابق یہ دستاویز ابتدائی مفاہمتی فریم ورک ہو سکتی ہے، جس پر آئندہ دنوں میں مزید مذاکرات اور ترامیم متوقع ہیں، تاہم ابھی تک امریکا، ایران یا پاکستان کی جانب سے اس مسودے کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی

مزید خبریں

آپ کی راۓ