
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ اُس وقت ختم ہوگی جب ایران کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہوگی، جبکہ جنگ کے خاتمے کا دوسرا راستہ مذاکرات ہیں، تاہم مذاکرات کا درست وقت وہ ہوتا ہے جب فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل ہو چکی ہوں۔
ایرانی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں خطرات مول نہیں لیے جا سکتے، اس لیے تمام فیصلے مکمل سوچ بچار اور درست حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے کیا فائدہ ہوگا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری ثابت ہوگی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ بعض نقصانات کے باوجود ایران اس جنگ کے نتیجے میں ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور جنگ کے دوران ایرانی نظام نے اپنی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار مذاکرات کی کوشش کی ہے اور واشنگٹن آئندہ بھی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مارکو روبیو نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو عالمی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے