
اسلام آباد: اڈیالہ جیل حکام نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صحت سے متعلق یکم اور 10 اگست کی میڈیکل رپورٹس سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہیں، جن میں ڈاکٹرز نے ان کے ذہنی دباؤ اور بلڈ پریشر پر قابو پانے کے لیے ٹی وی، اخبارات، کتابوں اور اہلخانہ سے زیادہ ملاقاتوں کی سہولت فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق یکم اگست کو کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اختر علی بندیشہ نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا۔ اس دوران بانی پی ٹی آئی نے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، سر درد اور بے چینی کی شکایت کی۔ یکم اگست کو ان کا بلڈ پریشر 140/100 اور نبض کی رفتار 50 فی منٹ ریکارڈ کی گئی، تاہم ای سی جی میں کوئی نمایاں غیر معمولی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ ماہر امراضِ قلب نے بلڈ پریشر کی ادویات میں تبدیلی، سی ٹی کورونری انجیوگرافی اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے اہلیہ سے ملاقاتوں سمیت ٹی وی و اخبار کی فراہمی تجویز کی۔
بعد ازاں 10 اگست کو 4 رکنی میڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی معائنہ کیا، جس میں ان کا بلڈ پریشر 140/80 اور نبض 54 ریکارڈ ہوئی۔ بورڈ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے سینے میں درد، سانس پھولنے یا دل کی دھڑکن تیز ہونے کی شکایت نہیں کی، جبکہ ان کی ای سی جی اور ایکو رپورٹس نارمل رہیں اور دل کے والوز و چیمبرز بھی درست پائے گئے۔ میڈیکل بورڈ نے قرار دیا کہ انہیں فی الوقت سی ٹی انجیوگرافی جیسے مزید کارڈیک ٹیسٹس کی ضرورت نہیں ہے، البتہ روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی، ذہنی سکون اور اہلخانہ سے مسلسل رابطے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ ہیلتھ رپورٹ میں ان کی آنکھ کے مسئلے کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں نے بھی ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے بانی کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔