
ہمسایہ دوست ملک ایران میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف 15 نومبر کو شروع ہونے والے مظاہرے جلد ہی حکومت کی تبدیلی کے مطالبوں میں تبدیل ہو گئے۔
ملک بھر سے لوگ سڑکوں پر آ گئے اور ایران کے رہبر اعلیٰ کی تصاویر کو نذرِ آتش کرتے ہوئے انھیں ڈکٹیٹر قرار دیا۔
انٹرنیٹ کی تقریباً مکمل بندش کے باوجود درجنوں شہروں میں چھ دن کے پرتشدد مظاہرے جب ختم ہوئے تو اقوامِ متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق تقریباً 106 افراد ہلاک ہو گئے تھے مگر دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایران نے اموات کی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے اور غیر ملکی دشمنوں سے منسلک ’غنڈوں‘ کو ان مظاہروں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔