قرآن کافلسفہ علم (حصہ دوم)

9

خصوصی تحریر: احسن اقبال وفاقی وزیر

قرآن ایمان کا مطالبہ اندھی تقلید کے ذریعے نہیں کرتا۔ اس کے برعکس وہ انسانی عقل کو بیدار کرنے کے لیے سوال اور غور و فکر کا طاقتور طریقہ اختیار کرتا ہے۔ قرآن بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ فطرت میں بکھری ہوئی نشانیوں پر نظر ڈالے۔ وہ پوچھتا ہے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ بخارات کیسے اٹھتے ہیں اور بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں؟ بادل کس طرح جمع ہوتے ہیں اور پھر بارش برسا دیتے ہیں جو بنجر زمین کو سرسبز چراگاہوں میں بدل دیتی ہے؟

قرآن کہتا ہے:

“کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں آپس میں ملاتا ہے، پھر انہیں تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے درمیان سے بارش نکلتی ہے۔” (النور: 43)

ایک اور آیت زندگی کے معجزے کی طرف توجہ دلاتی ہے:

“پھر ہم نے نطفے کو جما ہوا خون بنایا، پھر خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے کو ہڈیاں بنایا، اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا۔” (المؤمنون: 14)

قرآن سمندروں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے:

“اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ سمندر میں پہاڑوں جیسے جہاز چلتے ہیں۔” (الشوریٰ: 32)

اور کائناتی نظم کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے:

“اسی نے تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کیا جو مسلسل گردش میں ہیں، اور اسی نے تمہارے لیے رات اور دن کو بھی مسخر کیا۔” (ابراہیم: 33)

یہ آیات انسان کو اپنی عقل استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ قرآن یہ سکھاتا ہے کہ کائنات دراصل ہم آہنگی اور توازن کی ایک عظیم نغمگی ہے، جہاں ہر عنصر ایک الٰہی نظم کے تحت کام کر رہا ہے۔ انسانی ترقی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرے اپنی سماجی، معاشی اور روحانی زندگی کو اسی ہم آہنگی کے مطابق ڈھالتے ہیں۔

جب معاشرے اس توازن کا احترام کرتے ہیں تو وہ ترقی کرتے ہیں، اور جب وہ اسے پامال کرتے ہیں تو انتشار اور زوال جنم لیتا ہے۔

مسلم اسپین اس قرآنی اصول کی عملی مثال تھا۔ وہاں علم کا ایسا ماحول پیدا ہوا جو باہمی ہم آہنگی پر قائم تھا۔ مسلمان، عیسائی اور یہودی ایک مشترکہ علمی فضا میں مل کر کام کرتے تھے تاکہ علم کو آگے بڑھایا جائے اور معاشرتی ترقی کو فروغ دیا جائے۔

لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وقت کے ساتھ یہ روح مدھم پڑ گئی۔ آہستہ آہستہ مسلم دنیا کے بڑے حصے میں تحقیق اور جستجو کی ثقافت کمزور ہوتی گئی۔ علمی تجسس کم ہوتا گیا۔ جو معاشرے کبھی علم پیدا کرتے تھے وہ آہستہ آہستہ دوسروں کے پیدا کردہ علم کے محض صارف بن کر رہ گئے۔

یہ ایک مشکل سوال کو جنم دیتا ہے:

اگر قرآن نے اندلس کے مسلم علماء کو علم کی قیادت کرنے کی تحریک دی تھی تو آج وہی قرآن ہمیں اسی طرح کیوں متاثر نہیں کرتا؟

قرآن تو نہیں بدلا۔ بدلا ہے تو ہمارا اسے سمجھنے کا انداز۔ وہ فکری زاویہ جس کے ذریعے پہلے لوگ قرآن کو پڑھتے تھے، زنگ آلود ہو چکا ہے۔ وہ جستجو کی روح جو کبھی مسلم علمی روایت کی جان تھی، کمزور پڑ گئی ہے۔ ہم نے قرآن کو تخلیق کے اسرار کو دریافت کرنے کی دعوت کے بجائے اکثر صرف رسم کے طور پر پڑھنے تک محدود کر دیا ہے۔

قرآن کائنات، ستاروں، سمندروں اور زندگی کے اسرار کا ذکر کرتا ہے اور انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ان کی تحقیق کرے۔ لیکن آج ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: ان میدانوں کی کھوج کون کر رہا ہے؟

جیمز ویب خلائی دوربین اور ہبل خلائی دوربین کائنات کے مطالعے کے لیے انسانیت کے طاقتور ترین آلات میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ سائنسی اداروں کی پیداوار ہیں جو دنیا کے دیگر حصوں میں قائم ہیں۔ حالانکہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب دنیا کی بڑی رصدگاہیں مسلم سرزمینوں میں قائم تھیں کیونکہ اس وقت کے علماء قرآن کی اس دعوت کو سمجھتے تھے کہ آسمانوں کا مطالعہ کیا جائے۔

قرآن کہتا ہے:

“وہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔” (آل عمران: 191)

آج مسلم دنیا علم کے ان محاذوں میں بہت کم حصہ ڈال رہی ہے۔ یہ خلا صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ علمیات کا بھی ہے۔

یہ ایک افسوسناک ستم ظریفی ہے کہ جہاں قرآن انسان کو کائنات کی کھوج کی دعوت دیتا ہے، وہیں ہمارے معاشروں میں بعض مذہبی مباحث فرقہ وارانہ جھگڑوں تک محدود ہو چکے ہیں۔ قرآن انسان کو کائنات کی دریافت کا پیغام دیتا ہے لیکن کچھ مذہبی رہنما دوسرے فرقوں کی مساجد پر قبضہ کرنے کے مباحث میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ قرآن کی روح نہیں ہے۔

قرآن انسان کو دیکھنے، سوچنے، سوال کرنے اور دریافت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

علامہ محمد اقبال نے اس فکری جمود کے بارے میں بڑی گہری بصیرت کے ساتھ خبردار کیا تھا:

“آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے

کھویا گیا کس طرح تیرا جوہرِ ادراک

کس طرح ہوا کند ترا نشترِ تحقیق

ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک”

اقبال نے مذہب کو محض غیر فعال انداز میں اپنانے کے خطرے سے بھی خبردار کیا:

“خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو

کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں”

آج مسلم معاشروں کا المیہ یہ نہیں کہ ان کے پاس ایمان نہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ایمان کو قرآن کی فکری روح سے جدا کر دیا گیا ہے۔

لہٰذا قرآن کی علمیات کو دوبارہ دریافت کرنے کے لیے ایک گہری فکری تجدید کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے ایمان کے دائرے میں عقل کی عزت کو بحال کرنا۔ یہ سمجھنا کہ سائنسی تحقیق اسلام سے متصادم نہیں بلکہ اس کی فکر میں جڑی ہوئی ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تعلیمی نظام کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ مفکر، موجد اور مسائل حل کرنے والے افراد پیدا کرے۔ ایسی جامعات قائم کی جائیں جو تجسس، تجربہ اور دریافت کو فروغ دیں۔

اور سب سے بڑھ کر نئی نسل کو یہ سکھایا جائے کہ سوال کرنا بے ادبی نہیں بلکہ قرآن کی اس دعوت کی اطاعت ہے جو انسان کو تخلیق پر غور کرنے کا حکم دیتی ہے۔

اندلس کے کھنڈرات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب فکری توانائی ختم ہو جائے تو تہذیبیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ جب ایمان اور عقل دوبارہ ساتھ چلنے لگیں تو نئی نشاۃِ ثانیہ بھی ممکن ہے۔

قرآن نے مسلمانوں کو فکری قیادت کا راستہ دکھایا تھا۔ جب مسلمانوں نے اس راستے پر عمل کیا تو انہوں نے دنیا کو روشن کیا۔ اور جب انہوں نے اسے چھوڑ دیا تو تاریخ میں اپنا مقام کھو بیٹھے۔

جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا:

“وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر”

اقبال کا اشارہ صرف عبادات کو چھوڑنے کی طرف نہیں تھا بلکہ قرآن کی اس فکری روح کو ترک کرنے کی طرف تھا جو غور و فکر، تخلیق اور دریافت کی دعوت دیتی ہے۔

اگر ہم قرآن کی اس علمیات کو دوبارہ دریافت کریں جو مشاہدہ، تحقیق اور کائنات کے اسرار پر غور و فکر پر مبنی ہے تو شاید یہی مسلم دنیا میں ایک نئی فکری نشاۃِ ثانیہ کی ابتدا بن سکتی ہے۔

نوٹ: یہ خصوصی تحریر وفاقی وزیر احسن اقبال نے انگلش اخبار”دی نیوز” میں لکھا ہے جس کا اردو ترجمہ جیوقائد کرکے اپنی ویب سائٹ geoquaid.com پے لگایا ہے۔ courtesy: “The News”

مصنف کی مزید تحاریریں

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے یوم یکجہتی کشمیر پر وزیراعظم عمران خان سے 12 سوالات پوچھ لی...

آپ کی راۓ