
ایران امریکہ اسرائیل جنگ اور پاکستانی سفارتکاری
کالم نویس: سید صہیب شاہ
پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ توجہ پاکستان کو اُس کے مثبت کردار کی وجہ سے مل رہی ہے۔ دنیا اس وقت اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں اور امریکہ کی طاقت کے مظاہرے کے باعث پیدا ہونے والی جنگ کی وجہ سے معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا امن شدید متاثر ہوچکا ہے، اور ظاہر ہے جب کوئی خطہ بدامنی کا شکار ہوجائے تو اس کا اثر سب سے پہلے تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار پر پڑتا ہے، جس سے براہِ راست عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اسرائیل جو کہ ایک دہشتگرد ریاست ہے کی خواہش پر امریکہ نے آخر کیوں پوری دنیا کو معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے؟ کیا اس جنگ کے پیچھے امریکہ کے مفاد بھی شامل ہیں یا پھر صرف ٹرمپ کے ذاتی مفاد ہیں؟ ٹرمپ کو پرسنلی منشن کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس جنگ کی خلاف آوازیں خود امریکہ بھی اُٹھ رہی ہیں، امریکہ میں نہ صرف اپوزیشن اس جنگ کی مخالفت کررہی ہے بلکہ حکومتی حلقوں کے اندر سے بھی اس جنگ کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔
اب ایک طرف ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی تجارت متاثر ہورہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایران مشرقِ وسطی میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کرکے مشرقِ وسطی کا امن تباہ کررہا ہے، اس صورتحال سے نہ صرف وہاں کے مقامی لوگ متاثر ہورہے ہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی اور بھارتی بھی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں روزگار کرکے اپنے گھروں کا نظام چلاتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں جہاں پوری دنیا بے یقینی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، وہاں کسی نہ کسی کو جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کردار ادا کرنا ہی تھا۔ جب دنیا واضح راستہ تلاش کرنے میں مشکل محسوس کررہی تھی تو پاکستان نے اس جنگ کے خاتمے کے لئے سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کیا، اور پاکستان کی بہترین سفارتکاری کے نتیجے میں امریکہ اور ایران سینتالیس سال میں پہلی بار مزاکرات کے لئے نا صرف راضی ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے نمائندے اسلام آباد میں ایک ٹیبل پر بھی بیٹھے، اور اب عنقریب پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ خاتمے کی طرف جا رہی ہے۔
پاکستان کی بہترین اور غیرجانبدار سفارتکاری کی مثالیں دنیا دے رہی ہے، بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی سفارتکاری کو سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے، اور اسکی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا غیرجابندارانہ کردار ہے، پاکستان نے جہاں اسرائیل کی کارروائیوں پر تشویش اور مذمت کا اظہار کیا، وہیں ایران کے مشرق وسطی پر حملوں پر بھی اپنے تحفظات واضح کئے ، یہی وہ غیرجانبدار مؤقف ہے جو پاکستان کی سفارتکاری کی اہمیت کو بڑھا رہا ہے، دنیا اور خصوصا امریکہ اور ایران اس وقت پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار کررہا ہے، پاکستان سفارتکاری کے میدان میں اپنا لوہا منوا چکا ہے اور اس سفارتکاری کا فائدہ جنگ بندی کی صورت میں پوری دنیا کو ہونے والا ہے۔