پاکستان میں 5G سروس کا آغاز، بہت جلد..

6

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ خواجہ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ پاکستان میں بہتر انٹرنیٹ رفتار فراہم کرنے اور 5G سروس کے آغاز کے لیے آئندہ ماہ 600 میگا ہرٹز (MHz) اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دو ماہ کے اندر 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کی منظوری دی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے دستیاب اسپیکٹرم انتہائی محدود ہے، جبکہ ٹیلی کام کمپنیاں صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ہم ایک اسپیکٹرم کی کمی کا شکار ملک ہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ’’240 ملین آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، وہاں 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے۔‘‘

اسپیکٹرم سے مراد ریڈیو فریکوئنسیز کی وہ حد ہے جس کے ذریعے موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی اور ریڈیو کے وائرلیس سگنلز منتقل ہوتے ہیں۔ 3G، 4G اور 5G جیسے موبائل نیٹ ورکس اسی اسپیکٹرم کے مخصوص فریکوئنسی بینڈز پر ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا میں ملک گیر سطح پر 5G نیٹ ورک لانچ ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان، نیپال اور افغانستان میں ابھی یہ سروس متعارف نہیں کرائی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اسپیکٹرم کی دستیابی خطے میں سب سے کم ہے، جس کی بنیادی وجہ کئی برسوں سے کسی بڑی اسپیکٹرم نیلامی کا نہ ہونا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ’’یہ نیلامی نہ صرف 3G اور 4G سروسز کو بہتر بنائے گی بلکہ پاکستان میں پہلی بار 5G متعارف کرانے میں بھی مدد دے گی۔‘‘

شزا فاطمہ خواجہ نے زور دیا کہ انٹرنیٹ آج کے دور میں سڑکوں کی طرح ایک ’’اہم بنیادی ڈھانچہ‘‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’انٹرنیٹ سماجی شعبے کی ترقی، بڑے پیمانے کی معاشی پالیسیوں اور قومی و ذاتی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس سطح کی کنیکٹیویٹی کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ انٹرنیٹ اور کنیکٹیویٹی کو ایک ’’اہم ذریعہ‘‘ سمجھنا ضروری ہے جو ملک کی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔

گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اسپیکٹرم کی نیلامی جنوری کے اختتام یا فروری کے آغاز تک مکمل کر لی جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نیلامی میں پہلی بار پاکستان میں اضافی بینڈز پیش کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف 3G اور 4G سروسز کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ 5G سروس کے آغاز کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انٹرنیٹ، ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت حکومت کی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔

نومبر میں 5G اسپیکٹرم نیلامی کے کنسلٹنٹ نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی، جو پی ٹی سی ایل اور ٹی لینور کے انضمام اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق قانونی معاملات کے باعث تعطل کا شکار رہی۔

یہ رپورٹ امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس (NERA) نے تیار کی، جس کے مطابق پاکستان چھ بڑے بینڈز میں مجموعی طور پر 606 میگا ہرٹز نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جن میں 700 میگا ہرٹز، 1800 میگا ہرٹز، 2100 میگا ہرٹز، 2300 میگا ہرٹز، 2600 میگا ہرٹز اور 3500 میگا ہرٹز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2600 میگا ہرٹز بینڈ کو 5G کے لیے سب سے موزوں قرار دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

انسداد دہشت گردی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں عادل راجا سمیت دیگر ملزمان کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنا ...

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے سال کے دوسرے روز بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ کاروباری ہفتے کے آخری دن ٹریڈنگ کا آغاز مثبت ماحول میں ہوا...

گیلپ کے عالمی سروے کے مطابق پاکستان نے 2026 کے آغاز پر معیشت اور امن دونوں حوالوں سے نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ 60 ممالک میں کیے گئے گلوبل اکنامک گیل...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے 28 پیسے کی ...

آپ کی راۓ