
جی ایچ کیو میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم، ریاست اور عوام کی مشترکہ جنگ ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار ہے اور گزشتہ سال اس جنگ میں غیر معمولی شدت دیکھنے میں آئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ برس دہشتگردی کے خلاف ایسی کاؤنٹر ٹیررازم کارروائیاں کی گئیں ہیں جو ملکی تاریخ میں پہلی بار اس سطح پر ہوئی ہیں اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیا کیے جا رہے ہیں اور گزشتہ سال پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعات کا جامع احاطہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ خوارج دہشتگرد ہیں اور ان کا اسلام، پاکستان، یا بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ عناصر فتنہ ہیں اور دشمن کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ریاست اور عوام میں دہشتگردی کے خلاف اب واضح اور مشترکہ سوچ پیدا ہو چکی ہے، جو اس جنگ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے، تاہم کاؤنٹر ٹیررازم کے شعبے میں مزید بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا ہےکہ فوج، پولیس اور انٹیلیجنس اداروں نے گزشتہ برس مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے گئے ہیں جن میں سے 14 ہزار 58 خیبر پختونخوا، 58 ہزار 778 بلوچستان اور 1,739 ملک کے دیگر حصوں میں انجام دیے گئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران قریباً 5,300 دہشتگرد مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 1,235 پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں جو اس جدوجہد کی بھاری قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈی آئی ایس پی آر نے بتایا ہےکہ گزشتہ سال 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک اسلام آباد میں پیش آیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کی بنیادی وجوہات میں سیاسی طور پر سازگار ماحول کا پیدا ہونا بھی شامل ہے۔
انکے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ جو گراف دیکھایا گیا ہے اس میں لال رنگ دہشتگردوں کی ہلاکتوں جبکہ سبز رنگ شہادتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ سال 2021 میں 761 دہشتگردی کے واقعات پیش آئے، جن میں 193 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ 592 پاکستانی شہید ہوئے۔ اس سال ایک دہشتگرد کے مقابلے میں تقریبا تین پاکستانی شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سال 2025 میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ 2,597 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 1,235 شہادتیں ہوئیں، یعنی ایک شہادت کے مقابلے میں 2 دہشتگرد مارا گیا۔ ان اعداد و شمار سے کاؤنٹر ٹیررازم کی مؤثریت میں واضح رجحان سامنے آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ 2021 میں افغانستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلی دہشتگردی میں اضافے کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ دوحہ معاہدے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوئی ، افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان کی داخلی سلامتی پر بھی مرتب ہوئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 3 بنیادی وعدے کیے تھے، جن میں افغانستان کی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینا، خواتین کو حقوق دینا اور ایک مؤثر و نمائندہ حکومت قائم کرنا شامل تھا، تاہم ان تینوں وعدوں پر کوئی عملی پیشرفت نہیں کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان میں انکلیوسِو گورنمنٹ کے نہ ہونے سے دہشتگردی کو فروغ ملا ۔ آج افغانستان دنیا بھر کے دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا۔ وہاں القاعدہ اور داعش جیسی عالمی دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں، جبکہ پاکستان کے خلاف سرگرم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت اور تربیتی مراکز بھی افغانستان میں موجود ہیں۔
انکے مطابق چین کے خلاف ای ٹی آئی ایم اور وسطی ایشیا کے خلاف آئی ایم یو بھی افغانستان میں سرگرم ہیں، مختلف نسلوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد عناصر افغان سرزمین پر موجود ہیں۔
ڈی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شام میں صورتحال تبدیل ہونے کے بعد غیر ملکی دہشتگردوں کی خطے میں منتقلی بھی ہوئی ہے جو پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہاہے کہ ریجنل سطح پر متعدد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جوکہ مختلف مسلم پراکسیز کو مختلف ممالک سے فنڈز اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق تقریبا 7.2 ملین ڈالرزکی فنڈنگ دہشتگردوں تک پہنچائی گئی، جبکہ بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر حفاظتی آلات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اندرونی سیاسی دھڑے بندی اور حکومتی کمزوری نے دہشتگردوں کی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیاہے۔ افغان طالبان نے مختلف سطحوں پر مکمل عملداری کے ساتھ ’گریڈ گیم‘ کھیلا، جس کے نتیجے میں دہشتگرد نیٹ ورکس مضبوط ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ 2021 کے بعد افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو منظم کرنا شروع کیا ہےاور بطور تنظیم ٹی ٹی پی کی تنظیمِ نو کی جاتی رہی۔ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان طرز کا تنظیمی ڈھانچہ دیا گیاہے جس میں تربیت، ڈائریکشن اور اسٹریٹیجک گائیڈنس شامل تھیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے امریکا اور اتحادی افواج کے خلاف کامیابی کا ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا، حالانکہ اس کامیابی کے پسِ پردہ اصل عوامل مختلف تھے، جنہیں دانستہ طور پر چھپایا گیاہے اسی دوران افغانستان میں وار اکانومی دہشتگردی کے لیے ایک اہم ایندھن بنی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انٹرنیشنل فنڈنگ رکنے کے بعد دہشتگردی کو آمدن کے مستقل ذرائع کے طور پر اپنایا گیا ہےاور وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا ہدف اور سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے مزید کہا ہےکہ دہشتگردی کے پیچھے واضح سیاسی محرکات، سہولت کاری اور منظم حکمت عملی موجود ہے اور افغانستان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کے براہ راست اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر مرتب ہوئے ہیں۔
پاکستان نے دمبولا میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سری لنکا کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی اور ہدف 20 گیندیں پہلے حاصل ک...