
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حکومت مخالف مظاہرین کو ’’شرپسند عناصر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ امریکا کے صدر کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ احتجاج ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش کا حصہ ہیں۔
ایران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے جس میں امریکا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان احتجاجی مظاہروں کو ’’پرتشدد تخریبی کارروائیوں اور وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ‘‘ میں تبدیل کرنے کا ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ’’سنگین مشکلات‘‘ کا شکار ہے۔
یہ احتجاج اپنے تیرہویں روز میں داخل ہو چکے ہیں، جو ابتدا میں معاشی مسائل کے خلاف شروع ہوئے تھے تاہم بعد ازاں یہ حالیہ برسوں کے سب سے بڑے مظاہروں میں تبدیل ہو گئے۔ مظاہرین کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کے خاتمے اور بعض حلقوں کی جانب سے بادشاہت کی بحالی کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران اب تک کم از کم 48 مظاہرین اور 14 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں
پاکستان کے ایئر چیف سے ملاقات میں عراقی فضائیہ کے کمانڈر نے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں میں ’’گہری دلچسپی‘‘ کا اظہار کیا اور پاکستان فضائیہ (پی ا...