
پاکستان میں طویل انتظار کے بعد بالآخر 5جی سروس کے آغاز کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ٹیلی کام اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں ایک بار پھر یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ آیا رمضان المبارک سے قبل 5جی اسپیکٹرم آکشن ممکن ہو پائے گا یا نہیں، کیونکہ حکومت اور ریگولیٹری ادارے حالیہ دنوں میں اس حوالے سے غیر معمولی طور پر متحرک نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان میں 5جی متعارف کرانے کی بات کوئی نئی نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران مختلف حکومتیں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وزارتِ آئی ٹی متعدد بار 5جی لانچ کی ٹائم لائنز دیتی رہی ہیں، تاہم پالیسی میں تاخیر، اسپیکٹرم کی قیمتوں پر اختلاف، معاشی مشکلات، ڈالر کی بلند شرح اور ٹیلی کام کمپنیوں کے تحفظات کے باعث یہ عمل بارہا تعطل کا شکار رہا۔
اب ایک بار پھر یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ 5جی اسپیکٹرم آکشن کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ اس پیش رفت نے امیدیں تو بڑھا دی ہیں، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ آیا اس بار یہ اعلان عملی صورت اختیار کر پائے گا یا ماضی کی طرح ایک اور وعدہ ثابت ہوگا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے رابطہ کرنے پر پی ٹی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وی نیوز کو بتایا کہ 5جی آکشن سے متعلق تمام بنیادی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اسپیکٹرم آکشن کا مکمل ڈیزائن تیار ہے۔ ان کے مطابق ریگولیٹری سطح پر اب کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رمضان سے قبل 5جی اسپیکٹرم آکشن ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک سنگِ میل ہوگا بلکہ انٹرنیٹ اسپیڈ، ڈیجیٹل سروسز، آئی ٹی برآمدات اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری متوقع ہے۔
اب سب کی نظریں حکومت کے حتمی فیصلے اور عملی اقدامات پر مرکوز ہیں، جو طے کریں گے کہ پاکستان میں 5جی کا خواب اس بار حقیقت بنتا ہے یا ایک بار پھر انتظار ہی مقدر ٹھہرتا ہے